نئی دہلی ،29؍اپریل ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) اتوار کو دہلی میں منعقد کانگریس کی ’جن آکروش ریلی‘میں ملک بھر سے کارکن اکٹھا ہوئے ہیں۔اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر راہل گاندھی نے جہاں وزیر اعظم مودی کو ان کی حکومت کی ناکامی یاد دلائی۔وہیں انہوں نے اپنے طیارے میں آئی تکنیکی پریشانی کا قصہ بھی سنایا۔راہل نے اپنے اس تجربے کو شیئر کرتے ہوئے ایک نیا کارڈ بھی کھیلا۔راہل گاندھی نے کہاکہ میں دو تین دن پہلے کرناٹک جا رہا تھا، میں ہوائی جہاز میں سوار تھا۔طیارہ اچانک 8 ہزار فیٹ کے نیچے آ گیا۔میں اندر سے ہل گیا اور لگا کہ اب گاڑی گئی۔تبھی مجھے کیلاش مان سروور یاد آیا۔اب میں آپ سے 10 سے 15 دن کے لئے چھٹی چاہتا ہوں تاکہ کیلاش مان سروور کے دورے پر جا سکوں۔راہل گاندھی کا یہ بیان انتخابی نظریہ کے لحاظ سے کافی اہم مانا جا رہا ہے۔ساتھ ہی کانگریس کی نرم ہندوتو کی شبیہہ سے بھی اسے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔دراصل اس کے پیچھے بہت ساری وجہیں بھی ہیں۔2014 میں مرکز کے اقتدار میں مکمل اکثریت سے آئی بی جے پی کانگریس پر ہندو مخالف پارٹی ہونے کے الزام لگاتی رہی ہے۔گزشتہ کچھ وقت سے یکے بعد دیگر الیکشن ہارتی آ رہی ہے کانگریس نے بھی مخالفین کے اس الزام کو کمزور کرنے اور اپنی شبیہہ کو تبدیل کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔جو سب سے پہلے گجرات اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملی۔گجرات میں انتخابی مہم کے دوران جب راہل گاندھی نے مندردرشن کو اہمیت دی تو ہر طرف کانگریس کی نرم ہندوتو شبیہہ کی بحث ہونے لگی۔کانگریس پارٹی اور خود راہل گاندھی عوامی پلیٹ فارم سے اپنے پکے ہندو ہونے کے دعوے کرتے رہے۔ گجرات کے بعد اب کرناٹک میں بھی راہل گاندھی اور کانگریس لیڈر مندروں اورخانقاہوں کے جم کر دورے کر رہے ہیں۔راہل گاندھی نے صوبے میں لنگایت، ووککالگا اور کربا کمیونٹی سے منسلک خانقاہوں اور مندروں کا دورہ کیا ہے۔وہ اکثر پیشانی پر ٹیکہ لگائے، مندروں میں پوجا کرتے ہوئے، پادریوں سے دعائیں لیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔اسی کڑی میں آج راہل نے جب کرناٹک جاتے وقت اپنے ہوائی جہاز میں آئی پریشانی کا واقعہ سنایا تو یہاں بھی وہ بڑا کارڈ کھیل گئے۔راہل نے کہا کہ جب انہیں لگا کہ اب گاڑی گئی (شاید آخری وقت آ گیا ہے) تو انہیں کیلاش مان سروور کی یاد آئی۔راہل نے ایسا کہتے ہوئے کرناٹک انتخابات کے بعد کیلاش مان سروور کے سفر پر جانے کا اعلان کر دیا۔ایک طرف راہل نے جہاں عوامی طور پر خود کیلاش مان سروور کے سفر پر جانے کا اعلان کیا، وہیں دوسری طرف 1مئی سے کرناٹک میں انتخابی مہم کے لئے اتر رہے وزیر اعظم نریندر مودی اپنے مجوزہ پروگرام کے باوجود بابا کیدار کے درشن کے لئے نہیں جا پائے۔اتوار کو ہی بابا کیدارناتھ کے کپاٹ کھلے ہیں اور اس موقع پر وزیر اعظم مودی کو کیدارناتھ جانا تھا، لیکن ان کا پروگرام منسوخ ہو گیا۔تو اب جبکہ تمام پارٹیاں مشن 2019میں لگی ہوئی ہیں۔ایسے میں انتخابی سیاست میں حاشیہ پر کھڑی نظر آ رہی کانگریس بھی کم بیک کے لئے ہر ممکن داؤ پرچلتی دکھائی دے رہی ہے۔کانگریس صدر راہل گاندھی بھی بی جے پی کو اسی کے انداز میں گھیرنے کی ہر ترکیب اپناتے دکھائی دے رہے ہیں۔تاہم اس پوری قواعد کا انتخابی نتائج پر کیا اثر ہوتا ہے، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔